Sunday, September 22, 2019

Muslim Ulamas Meet Honourable Home Minister


Delegation of Jamiat Ulama-i-Hind and other Muslim organizations meets with Home Minister Amit Shah

New Delhi, September 21, 2019: A delegation comprising of the leaders of Jamiat Ulama-i-Hind and other Muslim organizations called on Shri Amit Shah, the Home Minister of India at his Krishna Menon Marg residence and discussed various important issues concerning the country and community. The delegation was led by Jamiat Ulama-i-Hind National president Maulana Qari Mohammad Usman Mansoorpuir accompanied by Maulana Mahmood Madani JUH General Secretary, Maulana Asghar Ali Imam Mehdi Salafi, Ameer Jamiat Ahle Hadith Hind and several other leaders.
 
Maulana Mahmood Madani, General Secretary of Jamiat Ulama-i-Hind during meeting handed over to the Home Minister the Hindi version of resolutions that were adopted in the recently concluded General Council Meeting of Jamiat Ulama-i-Hind (JUH). Maulana Madani also apprised him that General Council of JUH comprises of representatives from all across the country. Maulana Madani also asserted that there might be differences of opinion over some issues with the government, but if the matter belongs to the national interest, JUH would stand side by side with it. That is why the JUH General Council has adopted a resolution reiterating its stand that Kashmir and people of Kashmir both belong to us equally and they can not be separated from us and that JUH deplores every separatist movement and it always stands up for the cause of united India. 

 Maulana further noted that the Home Ministry's initiative about Pan India NRC is presented as a threat and harassment to the Muslims. Therefore, it would be proper if the Home Minister clarifies his stand over the issue. Likewise, there are grave concerns over certain amendments in the provision of UAPA. These amendments may be necessary for checking the menace of terrorism but the police and law enforcing agencies must be held responsible for misuse of laws.

Shri Amit Shah while listening to the concern expressed by the members of the delegation clarified that scrapping article 370 is in the interest of people of Kashmir. This Article was instead harmful to the concerned people. He invoked many examples for proving his stand. But he also assured that the culture and tradition of Kashmiri shall not be affected. Maulana Mohammad Salman Mansurpoori raised the issue of banning media and other means of communications creating lots of difficulties to the Kashmiris. On this, the Home Minister replied to him that there are 196 police stations in Kashmir but the provision of 144 has been imposed in areas of only seven police stations. As for the curfew, night curfew has been imposed only in 14 police stations. About banning mobile phone, the miscreants from Pakistan are bent upon spreading rumour and disturbing peace in the valley, therefore it was necessary to impose a ban on it. However, we have arranged landlines phones and anyone can avail this facility within six hours. Besides that, we have also installed one thousand PCOs in public locations. But there are some connectivity problems in remote areas. Schools have been opened but we have not been suppressing anyone. We are trying hard to restore normalcy over there.

While explaining about NRC to the Jamiat President Maulana Qari Mohammad Usman Mansurpoori, the home Minster said that there was no need to get scared over NRC. In Assam, we have issued a circular that those who have been left out in NRC will be provided free legal aid by the government or will bear legal expense if someone avails legal service on his own. About conducting NRC exercise in the whole country, he said that in every country of the world this exercise has been conducted. Our intention has never been to harass members of the minority community. We will ensure that there is no discrimination based on religion. The government will continue to act against intruders as it is related to the security of the country. Regarding the UAPA Act, he said that enough provision has been incorporated while enacting this law that it should never be misused. He also lauded Jamiat's initiative for constituting Jamiat Sadbhavna Manch across the country. There is a need for dialogue among members of different communities in India.

Maulana Asghar Imam Salafi Mehdi said to the Home Minister that we believe in dialogue and discussion. Various issues being faced by the minority communities shall be resolved through discussions. The Home Minister assured him that he is willing to engage every Muslim organization with dialogue and discussion with an open heart.

Tuesday, September 10, 2019

Shri Ram Jethmalani is no more - a legal giant


رام جیٹھ ملانی
ان کی وکالت ان کی سیاسی وابستگی سے ہمیشہ آزادرہی
مقبول احمدسراج
ممتازقانون دان اور مشہور وکیل رام جیٹھ ملانی کی وفات سے ملک نے ایک نایاب جوہر کھودیا ہے۔ حق گو، آزاد طبع، صاف ذہن جیٹھ ملانی ایک مرنجا مرنج شخصیت کے حامل تھے۔ 95برس کی زندگی پانے والے اس وکیل کو اکثرلوگ ملک کا مہنگے ترین وکیل کی حیثیت سے جانتے ہیں مگر پاکستان کے صوبہ سندھ سے ہجرت شدہ اس شخص کی زندگی کے کئی گوشے عوامی نظروں سے مخفی رہے ہیں۔
جیٹھ ملانی نے صوبہ سندھ کے شکاری پورشہر میں جنم لیا۔ ان کے والد اور دادا دونوں کامیاب وکیل تھے۔ ان کی ولادت کے وقت ان کی والدہ کی عمر محض 14برس تھی۔ لہٰذا وہ ساری زندگی ان سے بڑی بہن جیسا برتائو کرتے رہے۔ ان کی ذکاوت اور فہم کی وجہ سے انہیں اپنی اسکول میں دوبار ڈبل پروموشن ملا اور محض 13برس کی عمر وہ میٹریکرلیشن مکمل کرچکے اور 17برس کی عمر میں کراچی میں قانون کی ڈگری بھی حاصل کرلی۔ مگر نئے قانون کی رُو سے صرف 21برس کی عمر میں کوئی بارکونسل کا رُکن نامزد کیا جاسکتا تھا جس کے بعد وکالت کی پریکٹس شروع کی جاسکتی تھی۔ ان کی وکالت کی ابتداء اس قانون کے جواز کو چیلنج کے کیس سے ہوئی۔ انہوں نے اپنی فریاد میں سوال کیا کہ جب 17برس میں قانون کی ڈگری مکمل ہوسکتی ہے تو بھلا ایسے سندیافتگان کو کیوں کر قانونی پریکٹس سے روکا جاسکتا ہے۔ کراچی کورٹ کے جج گوڈفرے نے ان کے حق میں فیصلہ دیا۔
اس طرح 1923میں پیداہونے والے جیٹھ ملانی نے 1940 میں وکالت کا آغاز کردیا۔ ان کے قریبی دوست اللہ بخش بروہی کی لاء فرم سے اس کا آغاز ہوا۔ بروہی خود کامیاب وکیل تھے۔ ان دونوں نے A.K. Brohi & Co. قائم کی۔
1947میں برصغیرکی تقسیم سے کراچی فوری طورپر متاثرنہیں ہوا۔ البتہ پنجاب کی سرحد پر آبادی کے تبادلے سے بڑا خون خرابہ ہوا۔ مگر فروری 1948تک کراچی آنے والے مسلم مہاجرین اور ان کی خونچکاں داستانوں کے عام ہونے کے بعد فرقہ وارانہ ہم آہنگی متاثرہونے لگی۔ جلد ہی فضا مسموم ہوگئی اور کراچی کے ایک گرودوارہ میں سکھوں کے ایک گروہ کے زندہ جلائے جانے کے بعد تو غیرمسلموں نے کراچی سے بمبئی ہجرت کرنی شروع کردی۔ پہلے پہل مردوں نے خواتین اور بچوں کو جہاز سے بمبئی بھیجا اور اس امید پر ٹھہرے رہے کہ شاید فضا دوبارہ سازگار ہوجائے۔ مگر فروری 1948میں حالات بہت بگڑگئے۔ بروہی نے رام جیٹھ ملانی کو 18فروری 1948کو کراچی کی بندرگاہ پر الوداع کہا اور بمبئی خط لکھ کر ان کی وہاں رہائش کا نظم کردیا۔
ہندوپاک تقسیم ہوگئے مگر بروہی اور جیٹھ ملانی کا دوستانہ تاحیات قائم رہا۔ دونوں ہی اپنے ممالک کے وفاقی وزیربرائے قانون و انصاف مقرر ہوئے۔ بروہی 1953 میں اور جیٹھ ملانی 1998میں۔
بمبئی ہجرت کے مدتوں بعد تک بروہی ٹیلی فون پر جیٹھ ملانی کی خیریت دریافت کرتے رہے۔ رام جیٹھ ملانی کی سوانح حیات لکھتے ہوئے سوسن ایڈلمین (Susan Adelman) لکھتی ہیں: بروہی نے ایک بار ان سے کہا: ''رام! میں نے جتنے بھی پیسے کمائے ہیں وہ تمہارے لئے ہیں۔ تمہیں جب بھی ضرورت ہو بتائو میں تمہیں بھجوادوںگا۔'' جیٹھ ملانی نے انہیں جواباً لکھا: ''بروہی! مجھے پتہ ہے تم صدا میرے لئے حاضرہو۔ ضرورت ہوئی تو میں تمہیں یاد کرلوںگا۔''
رام جیٹھ ملانی کی اس کی ضروت چندبرس بعد پڑی جب بمبئی میں ایک کراچی ہجرت کرنے والے مسلمان سے اپنوں نے کار خریدی جو کراچی میں اس کی قیمت کی ادائیگی کا خواہاں تھا۔ بروہی نے یہ پیسے کراچی میں انہیں اداکئے۔ اسی طرح ایک اور تبالے میں رام جیٹھ ملانی نے بمبئی میں ایک مسلمان سے مکان حاصل کیا اور کراچی میں اسے اپنامکان حوالے کیا۔ جب بروہی دہلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر بنے تو وہ رام جیٹھ ملانی کو سپریم کورٹ کے کیسوں کی پیری کے دوران دہلی آمد پر اپنے یہاں قیام پراصرارکرتے۔
جیٹھ ملانی 1981سے بمبئی کے عدالتی افق پر ابھرنے لگے۔ کئی مقدمات میں ان کی کامیابی نے ان کا نام روشن کیا۔ ان کے دومقدمات جو اوّلین دور میں لڑے گئے یادگار رہیںگے۔ پہلا کیس بمبئی رفیوجیزایکٹ سے متعلق تھا۔ اس ایکٹ کے تحت مہاجرین کو کیمپوں میں تقریباً مقیدرکھا جارہا تھا اور ان کی نقل و حمل پر نظررکھی جارہی تھی۔ جیٹھ ملانی نے PILداخل کرکے کورٹ سے تمام پانبدیاں ختم کروائیں۔ دوسری بڑی کامیابی سندھی زبان کی رسم الخط سے متعلق تھی۔ بمبئی کے حکام سندھی کو دیوناگری رسم الخط میں لکھنے پر اصرار کرتے۔ جیٹھ ملانی نے کورٹ سے کہا کہ سندھی ہمیشہ سے عربی و فارسی رسم الخط میں لکھی جاتی رہی ہے اور اس کے دیوناگری میں لکھے جانے پر وہ مجبور نہیں کرسکتے۔ کورٹ نے فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ مہاجرین کو آزادی ہوگی کہ عربی یا دیوناگری میں سے کسی بھی رسم الخط کا انتخاب کریں۔
صاف ذہن کے حامل اور فرقہ وارانہ منافرت سے عاری جیٹھ ملانی نے اپنی وکالت کو اپنی سیاسی وابستگی سے آزادرکھا۔ بی۔جے۔پی۔ میں رہ کر بھی انہوں نے اس کے مخالفین کے مقدمات کی پیروی کی۔ جہاں انہوں نے بمبئی کے اسمگلروں کا عدالتی دفاع کیا وہیں اندراگاندھی کے قاتلوں کے مقدمات کی پیروی بھی کی۔ وہ چارہ گھوٹالے میں لالوپرسادیادو کے وکیل بھی تھے اور عآپ کے اروندکیجریوال اور ارُون جیٹلی کی کشمکش میں کیجریوال کا عدالتی دفاع کیا۔ جیٹلی نے ان کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کررکھاتھا۔ ستم ظریفی یہ بھی دیکھئے کہ وہ جئے للیتاکا بھی قانونی دفاع کررہے تھے۔
سیاسی میدان میں انہوں نے کافی قلابازیاں دکھائیں۔ لوک سبھا کے لئے 1971میں وہ پہلی بار منتخب ہوئے اور اس میں شیوسینانے ان کی تائید کی۔ موت کے وقت وہ لالوپرسادکی RJDکے ٹکٹ پر راجیہ سبھا کے ممبرتھے۔ ان کی پہلی شادی 1941میں دُرگااہوجہ سے کراچی میں ہوئی تھی۔ مگر بمبئی آمد پر انہوں نے سوشیل ورکر رتناسے دوسری شادی کی اور دنوں کے درمیان خوشگوار تعلقات رکھے۔
گرچہ سیاسی طور پر وہ BJPکے کافی عرصہ رُکن رہے مگر پارٹی کے خلاف ضمیر کی آواز کو کبھی نہ دباسکے۔ 2004میں انہوں نے لکھنؤ سے واجپئی کے خلاف لوک سبھاکا انتخاب بھی لڑا۔ 2013میں جب انہوں نے BJPکے اندر بدعنوانیوں پر اپنی آواز بلند کی تو مودی اور شاہ نے انہیں پارٹی کی رُکنیت سے برخواست کردیا۔
جیٹھ ملانی اپنی زوربیان سے مخالفین کو چپ کردینے کا ملکہ رکھتے تھے۔ بابری مسجد کے سانحے سے دو ماہ قبل انڈیاانٹرنیشنل سنٹردہلی میں سیدحامدصاحب اس مسئلہ کے حل کے لئے صحافیوں، دانشوروں اور اہم صائب الرائے اشخاص کا ایک اجلاس بلایاتھا۔ اس میں جیٹھ ملانی بھی مدعوتھے۔ جیٹھ ملانی گرچہ بی۔جے۔پی۔ کے رُکن تھے مگر پارٹی کو مسائل پر اسٹریٹ پاور کے استعمال سے احتراز کا مشورہ بھی دینے والوں میں سے گنے جاتے تھے۔ اس اجلاس میں جیٹھ ملانی نے مسلمانوں کو دوستانہ مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ مسجد پر اپنا دعویٰ چھوڑدیں اور بی۔جے۔پی۔ کے پھُولتے اور پھیلتے ہوئے غبارہ کو پھوڑدیں۔ اور زورِبیان کچھ ایسا تھا کہ سامعین دَم بخود رہ گئے۔ ایک ہم نشیں JNUکی پروفیسرنے سرگوشی کے انداز میں کہا اس شخص کے زوربیان کے آگے ہم تمام گونگے ہیں۔
(اس مضمون کی خاطر جیٹھ ملانی کی سوانح حیات The Rebel اور ملکہ اہلوالیہ کی تازہ کتاب
"by Malika Ahluwalia "Divided by Partition ے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔)



Sunday, September 1, 2019

Chennai Leather Market - September 2019


CHENNAI LEATHER MARKET


V.M. Khaleelur Rahman


Leather market is almost the same in activities. Demand for tanned goat and sheep skins is not continuous. Exporters of leather and leather goods buy only when they have orders for them. They don’t want to buy goods to be kept in stock as they did till some months ago.


Run in tanned goat skins 4/6 sq. ft. fetches at around Rs.95 and Lots without Rejection Rs.60 per sq. ft. while V/IF combined and Lining were sold at around Rs.57 and 40 per sq. ft. respectively. Rejection and Langda sales were at around Rs.13 and 9 per sq. ft. Tanners are finding it difficult to sell their lower selections.


Qurbani raw goat and sheep skins prices in different Indian Centres were erratic. Generally speaking raw sheep skins were sold at prices ranging from Rs.80 to 120 and raw goat skins from Rs.25 to 30 per piece as it is without salted. In some places there were no buyers for raw goat skins. It is reported that raw hides were sold at around Rs.250 per piece. Exact report is not available.  


In Karnataka and Andhra Pradesh raw goat and sheep skins prices were as follows: Goat from Rs.25 to 35 and Sheep from Rs.80 to 100 per piece.  However at Centres like Miraj where raw goat skin quality is good prices were much higher depending on quality and selection. As some of closed tanneries have been reopened in Kanpur, it is reported there were rise in prices of quality goat skins and hides. There were no takers for Rejection items.


Export Contracts


Only some regular items meant for shoes are of interest to overseas customers at unchanged prices at around US $ 2.25 and 1.75 per sq. ft. for goat upper and lining leathers.

Hong King and Singapore customers are very slow in business whereas Japanese customers are almost absent in the market. As usual some shoe companies in places like Ambur are able to do well getting orders from different overseas customers with their best efforts.


Exporters are quoting as follows:


F/C sheep leather

4/6 sq. ft. All Suede JY 175, LIF Suede JY 140 and Rejection Suede JY 90

5/7 sq. ft. All Suede JY 185, LIF Suede JY 150 and Rejection Suede JY 95 


S/C sheep leather


Leading exporters have stopped producing this item as there is no demand and stocks cannot be held for long without sale particularly in the present tight market.


                              S/C OR F/C GOAT LEATHER

 

Material

Size/sq. ft.

Substance

Selection

Price US$ per sq. ft. C&F

Goat upper leather

4/7

5/8

0.6/0.8 mm

0.7/0.9

ABC

2.30

2.45

Goat milled leather

4/7

0.6/0.8 mm

TR-1

1.65

Goat suede leather

4/7

0.6/0.8 mm

All Suede

1.75

Goat lining leather

4/7

0.5/0.7 mm

TR-1/2/3

1.75/1.65/1.55

Goat lining leather

5/8

0.6/0.8 mm

TR-1/2/3

1.85/1.75/1.65

 

                                    F/C SHEEP LEATHER

 

Material

Size/sq. ft.

Substance 

 

Selection

Price US$ per sq. ft. C&F

Sheep cabretta leather

4/7

0.6/0.8

ABC

2.10

Sheep cabretta leather

6/9

0.8/1.0

ABC /DE

1.80

Sheep lining

leather

4/7

5/8

0.5/0.7

0.6/0.8

TR-1

TR-1

1.75

1.85

(Writer’s e-mail id:vmk1234@yahoo.com)